اس سے پہلے کہ مری جان جوانی گزرے
اس سے پہلے کہ مری جان جوانی گزرے
تیرے کانوں سے کبھی میری کہانی گزرے
میرا بھی شعر کوئی تیری زبانی گزرے
پہلا مصرع نہ سہی مصرع ثانی گزرے
ہم بھی گزرے ہیں محبت کے اسی عالم سے
توڑ کے جیسے کنارے کہیں پانی گزرے
اتنی خاموشی سے گزرے ہیں تری راہ سے ہم
جتنی خاموشی سے دریا کی روانی گزرے
بس یہی سوچ کے غزلیں میں کہا کرتا ہوں
تیرے ہونٹوں سے کبھی کاش یہ بانی گزرے
کاش اک رات وہ مہکا کے چلی جائے مجھے
میرے آنگن سے کبھی رات کی رانی گزرے
سرد اک آہ مرے لب سے چلی آتی ہے
جب کوئی یاد مرے دل سے پرانی گزرے
پیار بھی طنز بھی دھوکہ بھی نمائش بھی کبیرؔ
اک تبسم میں ترے کتنے معانی گزرے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.