جیسے کھلتا ہوا پھولوں کا نگر دیکھ لیا
جیسے کھلتا ہوا پھولوں کا نگر دیکھ لیا
بام پر اس کو سر وقت سحر دیکھ لیا
کیا بتاؤں شب مہتاب کی رنگت یارو
چاندنی میں عجب اک رشک قمر دیکھ لیا
گو کہ تھی موت سے بڑھ کر شب فرقت پھر بھی
دیکھ سکتے تو نہ تھے اس کو مگر دیکھ لیا
سامنے اشک بہانا پس پردہ ہنسنا
ہم نے احباب کا ایسا بھی ہنر دیکھ لیا
مے کدے کی ہمیں اب کوئی ضرورت نہ رہی
ہم نے ان مست نگاہوں کا اثر دیکھ لیا
اب تلک اپنی نگاہوں میں ہے جلوہ ان کا
ہم نے راویؔ جو انہیں ایک نظر دیکھ لیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.