غم جاناں کے ماسوا کیا ہے
غم جاناں کے ماسوا کیا ہے
دل صد چاک میں بھلا کیا ہے
مرگ ہستی ہے حاصل ہستی
اور اس مرض کی دوا کیا ہے
برق جلوہ فگن نشیمن میں
تو مگر خوش ہے ماجرا کیا ہے
دار ہستی کو سرفراز کرو
رقص بسمل میں اب رکھا کیا ہے
پھر وہی آرزوئے رسوائی
دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
ایک واصفؔ نہ ہو تو غم کیسا
حسن صد رنگ یہ ادا کیا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.