Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اپنی بینائی کو خود آنکھ سے جاتا دیکھے

احمد فیض آبادی

اپنی بینائی کو خود آنکھ سے جاتا دیکھے

احمد فیض آبادی

MORE BYاحمد فیض آبادی

    اپنی بینائی کو خود آنکھ سے جاتا دیکھے

    جو بھی اس حسن مجسم کو سراپا دیکھے

    پاس منزل کے مرا رقص سبھی نے دیکھا

    کوئی تو ہو جو مرے پیر کا چھالا دیکھے

    شہر خاموش گئے اس کو تو مدت گزری

    آنکھ بے چاری مگر آج بھی رستا دیکھے

    وقت رخصت کچھ اس انداز سے دیکھا اس نے

    ڈوبتے وقت کوئی جیسے کنارا دیکھے

    یہ سہولت بھی تو مجنوں کو ملی صحرا میں

    بند آنکھوں کو کرے اور نظارا دیکھے

    جس نے حق گوئی کی تلقین مجھے کل کی تھی

    آج آ کر کے مرے گھر کا وہ ملبہ دیکھے

    تھا یقیں جس پہ بکھرنے پہ سمیٹے گا مجھے

    کم سے کم وہ تو مرا یوں نہ تماشہ دیکھے

    سب چراغوں پہ ہی الزام دیے جاتے ہیں

    کس کو فرصت ہے ہواؤں کا اشارہ دیکھے

    کس میں ہمت ہے جلے طور کی مانند یہاں

    کون ہے جو ترے جلوؤں کا نظارا دیکھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے