اپنی بینائی کو خود آنکھ سے جاتا دیکھے
اپنی بینائی کو خود آنکھ سے جاتا دیکھے
جو بھی اس حسن مجسم کو سراپا دیکھے
پاس منزل کے مرا رقص سبھی نے دیکھا
کوئی تو ہو جو مرے پیر کا چھالا دیکھے
شہر خاموش گئے اس کو تو مدت گزری
آنکھ بے چاری مگر آج بھی رستا دیکھے
وقت رخصت کچھ اس انداز سے دیکھا اس نے
ڈوبتے وقت کوئی جیسے کنارا دیکھے
یہ سہولت بھی تو مجنوں کو ملی صحرا میں
بند آنکھوں کو کرے اور نظارا دیکھے
جس نے حق گوئی کی تلقین مجھے کل کی تھی
آج آ کر کے مرے گھر کا وہ ملبہ دیکھے
تھا یقیں جس پہ بکھرنے پہ سمیٹے گا مجھے
کم سے کم وہ تو مرا یوں نہ تماشہ دیکھے
سب چراغوں پہ ہی الزام دیے جاتے ہیں
کس کو فرصت ہے ہواؤں کا اشارہ دیکھے
کس میں ہمت ہے جلے طور کی مانند یہاں
کون ہے جو ترے جلوؤں کا نظارا دیکھے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.