جیسی مٹی ہوگی ویسا پودا نکلے گا
جیسی مٹی ہوگی ویسا پودا نکلے گا
اس امروز کو دیکھو جس سے فردا نکلے گا
یہ کس نے سوچا تھا ملے گا دامن قاتل صاف
خون شہیداں رنگ کا اتنا کچا نکلے گا
مجھ سے بھی کتنوں نے کہا ہے گرم ہے یہ افواہ
تیری گلی سے مقتل تک اک رستہ نکلے گا
دشت میں جس دیوانے سے پوچھو گے اس کا حال
موج صبا اور نکہت گل کا قصہ نکلے گا
سارا شہر ڈرا بیٹھا ہے اپنی رات کے اندر
سورج لانے کو دیوانہ تنہا نکلے گا
میں اک گھائل بوڑھا برگد میری بات سنو
لگتا ہے کل ہر وادی سے صحرا نکلے گا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.