جہاں پھیلے تری یادوں کے سائے
جہاں پھیلے تری یادوں کے سائے
ستارے بن کے آنسو جگمگائے
تمہاری بے رخی کو خاک پروا
تری محفل میں کوئی خاک آئے
وہ منہ کو پھیر کر کہتے ہیں مجھ سے
تمہارا حال اب دیکھا نہ جائے
تری یادوں کے رنگیں پھول ہم نے
خم گیسوئے دوراں میں سجائے
محبت ہو تو مسجود ملائک
نہیں تو ہم سے بہتر چار پائے
گریباں کیا ہے کیا اس کی حقیقت
مری وحشت سے صحرا خوف کھائے
انہیں سے پوچھنے واصفؔ چلا ہے
اجازت ہو تو آؤں بن بلائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.