یہ وبا سی کہاں سے آتی ہے
یہ وبا سی کہاں سے آتی ہے
جاں کی پیاسی کہاں سے آتی ہے
نیک سیرت ہے ہر بشر تو پھر
خوں لباسی کہاں سے آتی ہے
پیکر خاک بے حقیقت میں
یہ انا سی کہاں سے آتی ہے
میرے اور اس کے درمیاں اکثر
اک جفا سی کہاں سے آتی ہے
خون آلود اک ہتھیلی سے
بو حنا سی کہاں سے آتی ہے
چشم بے باک شوخ فطرت میں
یہ حیا سی کہاں سے آتی ہے
رات کی تیرگی میں چھپ کر وہ
بے وفا سی کہاں سے آتی ہے
یہ مسلسل مرے خیالوں میں
دیو داسی کہاں سے آتی ہے
مٹ چکی دل سے جب تری ہر یاد
پھر ذرا سی کہاں سے آتی ہے
آپ کی فکر میں ابو شبرؔ
بے ہراسی کہاں سے آتی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.