Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

وہ جس کے قدموں میں پھول رکھے وہ جس کی رہ سے ہٹائے پتھر

کاشف بیگ کاشف

وہ جس کے قدموں میں پھول رکھے وہ جس کی رہ سے ہٹائے پتھر

کاشف بیگ کاشف

MORE BYکاشف بیگ کاشف

    وہ جس کے قدموں میں پھول رکھے وہ جس کی رہ سے ہٹائے پتھر

    یہی تو دکھ ہے کہ سب سے پہلے اسی کی جانب سے آئے پتھر

    یہاں پہ احسان کرنے والوں کی کوئی اوقات ہی نہیں ہے

    کہ جن درختوں پہ پھل لگے تھے انہیں درختوں نے کھائے پتھر

    جو خود کو لوہا بتا رہا تھا وہ شخص اندر سے آئنہ تھا

    تب اس کی آنکھوں میں خوف آیا کہ میں نے جس دم اٹھائے پتھر

    تو دیکھنا اب ہمیشہ ان میں وفا کی خوشبو بسی رہے گی

    یہ عام پتھر نہیں رہیں گے جو میرے خوں سے نہائے پتھر

    سنو سنو ہے مجھے بھی زخموں کی تاب لانے کا فن میسر

    سو کوئی مجھ پہ ترس نہ کھائے کہ جس کا دل ہو چلائے پتھر

    وفا جفا اور لڑائی جھگڑے یہ دونوں جانب کے مسئلے ہیں

    نہ ساری لیلائیں محترم ہیں نہ سارے مجنوں برائے پتھر

    کسی کے ہاتھوں میں ہیرے موتی بھی اپنا معیار کھو رہے ہیں

    کسی کے پیروں کے نیچے آئے چمک اٹھے جگمگائے پتھر

    میں پہلے پہلے تو خوش مزاجی و نرم لہجے کا معترف تھا

    پھر اس زمانے کی تلخیوں نے بنا دیا مجھ کو ہائے پتھر

    تمہارے جیسے اداس لڑکے وہاں پہ بیٹھا کریں گے کاشفؔ

    خدا نے یوں بھی بنائیں جھیلیں خدا نے یوں بھی بنائے پتھر

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے