وہ جس کے قدموں میں پھول رکھے وہ جس کی رہ سے ہٹائے پتھر
وہ جس کے قدموں میں پھول رکھے وہ جس کی رہ سے ہٹائے پتھر
یہی تو دکھ ہے کہ سب سے پہلے اسی کی جانب سے آئے پتھر
یہاں پہ احسان کرنے والوں کی کوئی اوقات ہی نہیں ہے
کہ جن درختوں پہ پھل لگے تھے انہیں درختوں نے کھائے پتھر
جو خود کو لوہا بتا رہا تھا وہ شخص اندر سے آئنہ تھا
تب اس کی آنکھوں میں خوف آیا کہ میں نے جس دم اٹھائے پتھر
تو دیکھنا اب ہمیشہ ان میں وفا کی خوشبو بسی رہے گی
یہ عام پتھر نہیں رہیں گے جو میرے خوں سے نہائے پتھر
سنو سنو ہے مجھے بھی زخموں کی تاب لانے کا فن میسر
سو کوئی مجھ پہ ترس نہ کھائے کہ جس کا دل ہو چلائے پتھر
وفا جفا اور لڑائی جھگڑے یہ دونوں جانب کے مسئلے ہیں
نہ ساری لیلائیں محترم ہیں نہ سارے مجنوں برائے پتھر
کسی کے ہاتھوں میں ہیرے موتی بھی اپنا معیار کھو رہے ہیں
کسی کے پیروں کے نیچے آئے چمک اٹھے جگمگائے پتھر
میں پہلے پہلے تو خوش مزاجی و نرم لہجے کا معترف تھا
پھر اس زمانے کی تلخیوں نے بنا دیا مجھ کو ہائے پتھر
تمہارے جیسے اداس لڑکے وہاں پہ بیٹھا کریں گے کاشفؔ
خدا نے یوں بھی بنائیں جھیلیں خدا نے یوں بھی بنائے پتھر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.