ادا ہوگا بھلا قرض وفا کیا
ادا ہوگا بھلا قرض وفا کیا
تمھارے بعد اس گھر میں رہا کیا
ہوس کو ہے نشاط کار کیا کیا
کوئی پھیلائے دامان وفا کیا
خرد اب تک جنوں نا آشنا ہے
ستاروں سے ورا کیا ہے پتہ کیا
فضاؤں میں لہو کی بو رچی ہے
نہ جانے رنگ دکھلائے ہوا کیا
خود اپنے واسطے آزار ٹھہرے
ہمارے کام آئے گا خدا کیا
ہمیں اس سنگ دل دنیا سے دیکھیں
ملے خون وفا کا خوں بہا کیا
نجیبؔ اپنی ستائش میں تھے سب گم
خبر کس کو تھی غالبؔ نے کہا کیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.