جبر سے اختیار تک سب جھوٹ
جبر سے اختیار تک سب جھوٹ
فتح سے اقتدار تک سب جھوٹ
منزلوں کا فریب کیا کہیے
کارواں سے غبار تک سب جھوٹ
رنگ کیا شے ہے خوشبوئیں کیا ہیں
آشیاں سے بہار تک سب جھوٹ
محفل عیش مطربہ ساقی
جام و مے سے خمار تک سب جھوٹ
دشت و دریا پہاڑ اور صحرا
اسپ سے شہسوار تک سب جھوٹ
پیاس باقی تھی پیاس باقی ہے
سنگ سے آبشار تک سب جھوٹ
اک خدا ہی ہے سچ علیؔ ورنہ
وہم سے اعتبار تک سب جھوٹ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.