آگے نکل گیا ہے دل خودکشی کے ڈر سے
آگے نکل گیا ہے دل خودکشی کے ڈر سے
مرنا بھی رائیگاں ہے پر زندگی کے ڈر سے
اک ایسی کوٹھری میں ہم کو رکھا گیا تھا
دن رات چیختے تھے بس خامشی کے ڈر سے
وہ بے بسی کا عالم پوچھو اسی سے جاناں
پانی میں ڈوبتا ہے جو تشنگی کے ڈر سے
اس نے نہیں کہا ہے رکنے کو اس لئے ہم
کپڑے چھپا رہے ہیں اب واپسی کے ڈر سے
اک دوسرے کے اندر ایسے چھپے ہوئے ہیں
ہم تیرگی کے ڈر سے وہ روشنی کے ڈر سے
کیا کچھ نہیں ہوا ہے سب چپ کھڑے ہیں یک دم
کاٹے ہیں ہاتھ سب نے اک ہتھکڑی کے ڈر سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.