وہ جھوٹ ایسا کمال ہنر سے بولتا ہے
وہ جھوٹ ایسا کمال ہنر سے بولتا ہے
کہ سارا شہر اسی کی نظر سے بولتا ہے
یہ ان دنوں جو بہت بولنے لگا ہے دل
کوئی بتائے تو کس کے اثر سے بولتا ہے
زمین پاؤں کے نیچے سے بولتی ہے کبھی
تو آسماں کبھی بالائے سر سے بولتا ہے
درون خانہ بظاہر ہے کیسا صبر و سکوت
عجب سا خوف مگر بام و در سے بولتا ہے
دم وداع سنی ہے کسی نے بات اس کی
بہ چشم خشک مسافر جو گھر سے بولتا ہے
نہ ٹوٹ جائے کہیں آئنہ سماعت کا
وہ بات کرتا ہے تو چشم تر سے بولتا ہے
دم قیام کریں بات سارے عضو بدن
چلے تو ہر قدم اپنی کمر سے بولتا ہے
سخن ہی اصل تعارف ہے آج میرا ندیمؔ
شجر ہو کوئی بھی اپنے ثمر سے بولتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.