Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

وہ جھوٹ ایسا کمال ہنر سے بولتا ہے

عبداللہ ندیم

وہ جھوٹ ایسا کمال ہنر سے بولتا ہے

عبداللہ ندیم

MORE BYعبداللہ ندیم

    وہ جھوٹ ایسا کمال ہنر سے بولتا ہے

    کہ سارا شہر اسی کی نظر سے بولتا ہے

    یہ ان دنوں جو بہت بولنے لگا ہے دل

    کوئی بتائے تو کس کے اثر سے بولتا ہے

    زمین پاؤں کے نیچے سے بولتی ہے کبھی

    تو آسماں کبھی بالائے سر سے بولتا ہے

    درون خانہ بظاہر ہے کیسا صبر و سکوت

    عجب سا خوف مگر بام و در سے بولتا ہے

    دم وداع سنی ہے کسی نے بات اس کی

    بہ چشم خشک مسافر جو گھر سے بولتا ہے

    نہ ٹوٹ جائے کہیں آئنہ سماعت کا

    وہ بات کرتا ہے تو چشم تر سے بولتا ہے

    دم قیام کریں بات سارے عضو بدن

    چلے تو ہر قدم اپنی کمر سے بولتا ہے

    سخن ہی اصل تعارف ہے آج میرا ندیمؔ

    شجر ہو کوئی بھی اپنے ثمر سے بولتا ہے

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے