تیرے چہرے پہ ہے گر آنکھ پرانی کوئی
تیرے چہرے پہ ہے گر آنکھ پرانی کوئی
مجھ سے مت مانگ نئے فن کی نشانی کوئی
نقش ہے سب کے دلوں پر مری تحریر مگر
میں جو پوچھوں تو بتائے نہ معانی کوئی
قصہ گوئی پہ تجھے ناز بہت ہے تو سنا
جس میں کردار نہ ہو ایسی کہانی کوئی
وہی میں نے بھی کیا جو مرے جی میں آیا
اور اس نے بھی مری بات نہ مانی کوئی
کون کافر ہے کہ ایمان نہ لائے تجھ پر
تو قیامت ہے تو پھر بھیج نشانی کوئی
ایسی تحریر بھی لکھ جس میں کوئی لفظ نہ ہو
آپ پہنائے گا زنجیر معانی کوئی
کون دیتا ہے کنارے کو کنارے کی خبر
موج کرتی نہیں پیغام رسانی کوئی
زندگی بھیک کی صورت میں ملی ہے سب کو
پا کے اترائے نہ پوشاک پرانی کوئی
آگ پانی میں لگا دیں گے لگانے والے
اور شعلوں سے نچوڑےگا نہ پانی کوئی
جو بھی سستا تھا وہی بک گیا مہنگا ہو کر
مجھ سے خود پر نہ چڑھا رنگ گرانی کوئی
فائدہ نام کی شہرت سے اٹھا لے ساجدؔ
بھیج اخبار کو تصویر پرانی کوئی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.