جو ہم پہ راز حسن و عشق کا اظہار ہو جائے
جو ہم پہ راز حسن و عشق کا اظہار ہو جائے
تو پھر قلب و نظر کیا زندگی دشوار ہو جائے
کریں اقرار ہی وہ یا کھلا انکار ہو جائے
حیات و موت کا یہ فیصلہ ایک بار ہو جائے
یہ مشت خاک جب مست مئے پندار ہو جائے
زمانے بھر کی نظروں میں ذلیل و خوار ہو جائے
نہ پوچھو زندگی اس خانماں برباد عاشق کی
دیار دوست میں جو زیست سے بیزار ہو جائے
قیامت ہے کہ جب وہ مجھ سے میری آرزو پوچھیں
زبان مدعا داماندۂ گفتار ہو جائے
اسے ہم جان لیں گے نعمت دیدار سے بڑھ کر
اگر ان کی طرف سے وعدۂ دیدار ہو جائے
نگاہ بے محابا ہی غضب ہے دیکھنا کیا ہو
ترا یہ تیر جب قلب و نظر کے پار ہو جائے
کمال بندگی نے مجھ کو اس رتبے پہ پہنچایا
جہاں اب سر جھکا دوں آستان یار ہو جائے
مری مشکل کشائی پر کوئی مشکل پسند آیا
الٰہی اور بھی مشکل مری دشوار ہو جائے
کبھی ایسی بھی منزل سے گزر ہوتا ہے انساں کا
رہ حسن و محبت چشم و دل پر بار ہو جائے
خوشی ڈھونڈھی تو غم نکلے وہ غم نکلے کہ دم نکلے
جو دم نکلے تو پھر دم بھر میں بیڑا پار ہو جائے
یہ کیسا حسن جو خود ہی کو خود پر مبتلا کر لے
یہ کیسی نازکی جو آپ ہی پر بار ہو جائے
حیات جاوداں پاتے ہیں بندے موت کے تاباںؔ
جسے جینا ہو مرنے کے لیے تیار ہو جائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.