دست ہوا سے پرتو ادراک ہو گئے
دست ہوا سے پرتو ادراک ہو گئے
بادل بکھر کے دامن صد چاک ہو گئے
تیز اس قدر تھی اپنی انا کی ہوا کہ ہم
آوارہ صورت خس و خاشاک ہو گئے
اظہار پا کے بھی وہ کب اظہار پا سکا
بے ربط لفظ درد کی پوشاک ہو گئے
کس شان سے اٹھے تھے بگولے جہت جہت
کیوں ٹوٹتے ہی سحر ہوا خاک ہو گئے
بیٹھے ہیں دل میں خنجر حالات گھونپ کر
مظلوم تھے مگر بڑے سفاک ہو گئے
افکار نو کے تیر ترازو ہیں ذہن میں
وہموں سے پر خیال کے فتراک ہو گئے
عرفان فن ذرا ہوا حاصل ہمیں تو ہم
اظہار ذات میں بڑے بے باک ہو گئے
خالدؔ خلا خلا وہی سودائے آگہی
صحرا نورد راہیٔ افلاک ہو گئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.