اشعار میں خیال کو رکھا نہیں گیا
اشعار میں خیال کو رکھا نہیں گیا
الفاظ کو سلیقے سے برتا نہیں گیا
دیکھا ہے جب سے خود کے گریباں میں جھانک کر
میں خود بھی اپنے آپ سے دیکھا نہیں گیا
ہر ایک کی نظر میں ہوں کتنا جدا جدا
سمجھا گیا ہوں ایسے کہ سمجھا نہیں گیا
بس اک جھلک دکھائی تھی اس نازنین نے
اور پھر نظر سے میری وہ چہرہ نہیں گیا
ایسا ہوا ہے زخمی ہمارا ضمیر کہ
شیشے کے سامنے کبھی ٹھہرا نہیں گیا
راویؔ چلا گیا ہے ہمیں چھوڑ کر مگر
اس کا ہماری بزم سے چرچا نہیں گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.