اتنی سی بات کا اتنا بڑا افسانہ بنا
اتنی سی بات کا اتنا بڑا افسانہ بنا
کوئی دیوانہ ہوا ہے کوئی دیوانہ بنا
وہ زیارت گہہ مجنوں بہت آباد ہوئی
اپنی وحشت کے لئے اب کوئی ویرانہ بنا
یا مرے کندھوں پہ رکھ پھر وہی عیسیٰ کی صلیب
یا تو پھر میری طبیعت کو غلامانہ بنا
جل کے مرنے میں مزا کیا ہے جلو اور جیو
زندگی جس کو نہ راس آئی وہ پروانہ بنا
اجرت ہجر نہ مانگ اپنا گریبان نہ بیچ
عشق کرنا ہو تو کر عشق کو پیشہ نہ بنا
کھڑکیاں بند نہ کر دل کی دکانیں نہ جلا
بمبئی جیسے حسیں شہر کو صحرا نہ بنا
مکتب عشق کا یہ پہلا سبق ہے راہیؔ
ہاتھ کٹوا لے مگر ہاتھ کو پیالہ نہ بنا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.