تیرا ہو کر جو چل رہا ہوگا
تیرا ہو کر جو چل رہا ہوگا
کتنا خود کو بدل رہا ہوگا
شام سے موم کی ہے قربت میں
اب تو پتھر پگھل رہا ہوگا
میں بھی یہ سوچ کر چلا گھر سے
وہ بھی گھر سے نکل رہا ہوگا
اس کے خوابوں سے میں نکل آیا
اب وہ آنکھوں کو مل رہا ہوگا
میرے تلووں میں یہ جلن کیسی
کوئی صحرا میں چل رہا ہوگا
آئنہ بے سبب نہیں حیراں
کوئی چہرہ بدل رہا ہوگا
اس کے حلقے سے میں نکل آیا
اب وہ ہاتھوں کو مل رہا ہوگا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.