لطف کا کون سا امکاں تھا جو پیدا نہ ہوا
لطف کا کون سا امکاں تھا جو پیدا نہ ہوا
بے قراری کا مگر کوئی مداوا نہ ہوا
شام فرقت کا وہ صحرا تھا کہ سایہ بھی نہ تھا
ہم ترے شوق میں جب نکلے تو کیا کیا نہ ہوا
میں ہمیشہ کے لیے تجھ سے جدا ہو جاؤں
لاکھ دل نے بھی یہ چاہا مگر ایسا نہ ہوا
کون سی شام تری یاد کی آہٹ نہ ہوئی
کون سی صبح ترے رخ کا اجالا نہ ہوا
ذہن نے شوق میں اصنام تراشے ہیں کئی
کب مرے پیش نظر تیرا سراپا نہ ہوا
زندگی تیرے تصور سے ہم آغوش رہی
تیرا بیمار برا کیا ہے گر اچھا نہ ہوا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.