کچھ بات رہی ہوگی جو وہ گھر نہیں لوٹا
کچھ بات رہی ہوگی جو وہ گھر نہیں لوٹا
ساحل سے جدا ہو کے سمندر نہیں لوٹا
امید تو آنکھوں نے بہت دیر نہ چھوڑی
لیکن وہ کبھی خوش نما منظر نہیں لوٹا
ہے عشق تو مات اس میں ہے دونوں کی یقینا
اس جنگ سے کوئی بھی مظفر نہیں لوٹا
کچھ دیر سے پھل دار درختوں نے پکارا
پر بھوک سے بے حالوں کا لشکر نہیں لوٹا
میں چھت پہ کھڑا اپنے سوالوں کو اڑاؤں
پر لے کے جواب اس کا کبوتر نہیں لوٹا
جب لوٹ کے تلخؔ آیا تو تھوڑی سی کمی تھی
دستار تو لوٹی تھی مگر سر نہیں لوٹا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.