اس امتحان سے خود کو گزارتے کب تک
اس امتحان سے خود کو گزارتے کب تک
تری خوشی کے لیے تجھ کو ہارتے کب تک
خود اپنی جاں کا اجالا فلک پہ ٹانک دیا
سحر بدست رتوں کو پکارتے کب تک
ہمیں پلٹنا پڑا زیست کی طرف آخر
ترے جمال کی نظریں اتارتے کب تک
تو ہم نے قافلۂ دل بڑھا لیا آگے
غرور حسن تجھ انتظارتے کب تک
ذرا سی دیر میں مائل بہ معذرت تھا ظہیرؔ
وہ مر چکا تھا اسے اور مارتے کب تک
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.