اک عمر تیری آگ میں جلنے کے بعد بھی
اک عمر تیری آگ میں جلنے کے بعد بھی
پتھر ہی لگ رہا ہوں پگھلنے کے بعد بھی
دل طاق انتظار میں رکھا ہوا چراغ
روشن ہے آفتاب نکلنے کے بعد بھی
مجھ کو گرا نہ دے مرے اندر کی توڑ پھوڑ
دھڑکا لگا ہوا ہے سنبھلنے کے بعد بھی
بوڑھی تھی روح خود کو توانا نہیں لگا
اپنا تمام جسم بدلنے کے بعد بھی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.