اذان صبح سے شب کا علاج کیا ہوگا
اذان صبح سے شب کا علاج کیا ہوگا
مجھے تو تیرا ہی چہرہ سحر نما ہوگا
اس انتظار میں تکمیل کفر ہو نہ سکی
کبھی تو میرا خدا بھی مرا خدا ہوگا
بہار کتنی ہی بے رنگ ہو بہار تو ہے
جو گل نہیں تو کوئی زخم ہی کھلا ہوگا
وہ تیرگی ہے کہ راہ وفا سے پوچھتا ہوں
تجھے تو اپنے مسافر کا کچھ پتا ہوگا
میں آج تیرے تصور میں مسکرا تو دیا
مگر یہ فکر ہے کس کس کا دل جلا ہوگا
ہے میرے لمس میں اب تک ترے بدن کی مہک
تری جدائی کا حق مجھ سے کیا ادا ہوگا
ترے فراق میں بھی تجھ سے ربط قائم ہے
کہ میری یاد میں تو بھی تو جاگتا ہوگا
مرے دیار کی مانند تیرے شہر میں بھی
اداس رات کا سناٹا رو رہا ہوگا
فضا میں تیر رہے ہوں گے کتنے فق چہرے
افق کی دھار پہ مہتاب کٹ گیا ہوگا
میں کھل کے رو نہ سکا جب تو یہ غزل کہہ لی
بچھڑ کے مجھ سے مگر تو نے کیا کیا ہوگا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.