اب آ بھی جا کہ یہ دل کتنا انتظار کرے
اب آ بھی جا کہ یہ دل کتنا انتظار کرے
میں کیا کروں جو ترا درد بے قرار کرے
یہ گفتگو یہ شرارت یہ تیرا شرمانا
حسین خوابوں میں آ آ کے ہم پہ وار کرے
لبوں پہ حسن تبسم بغل میں خنجر ہے
جو کام کوئی نہیں کر سکا وہ یار کرے
یہ کون ہے جو ترے حسن کا پجاری ہے
یہ کون میری محبت کو داغدار کرے
یہاں تو ساتھ بھی مطلب سے لوگ دیتے ہیں
کسے ہے اتنی عقیدت جو مجھ سے پیار کرے
میں تیرے شہر میں پھرتا ہوں پاگلوں کی طرح
تری جدائی رگ جسم تار تار کرے
یہ کیسا وار ہے اس کی حسین آنکھوں کا
کہ تیر رہنے دے دل میں نہ دل کے پار کرے
تمام وقت کو محدود کر کے فرصت میں
کوئی تو ہو جو مجھے یاد بار بار کرے
اذیتوں سے عبارت ہے زندگی اس کی
وہ کیسے درد مرا درد میں شمار کرے
نجانے کتنے بشر اور ناخدا ڈوبے
سمندروں پہ کوئی کیسے اعتبار کرے
ہمیں بھی کاش میسر ہو جسم کی خوشبو
ہمیں بھی قید کوئی زلف مشکبار کرے
تمہاری خوبرو آنکھوں میں یوں بسا امجدؔ
کہیں پہ اور کوئی گھر نہ اختیار کرے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.