آج دل ذکر یار کرتا ہے
آج دل ذکر یار کرتا ہے
پھر مجھے بے قرار کرتا ہے
مجھ کو آنسو ملے مقدر سے
تو کہاں اشک بار کرتا ہے
مل چکے خاک میں مگر تیرا
دل ابھی انتظار کرتا ہے
بھول کر بھی تجھے نہیں بھولے
بدگماں شرمسار کرتا ہے
شمع جلتی ہے اور پروانہ
جلنے والوں سے پیار کرتا ہے
ایک بار اور کیجیے وعدہ
کون اب اعتبار کرتا ہے
شام غم آ گئی مگر واصفؔ
سایۂ زلف یار کرتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.