Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

شرار سنگ کو جو شعلۂ سحر دے گا

محمد اسد علی وڑائچ

شرار سنگ کو جو شعلۂ سحر دے گا

محمد اسد علی وڑائچ

MORE BYمحمد اسد علی وڑائچ

    شرار سنگ کو جو شعلۂ سحر دے گا

    خزان دشت کو وہ مژدۂ ثمر دے گا

    جو خار چنتا رہا ہے تمام عمر یہاں

    وہی تو دشت کو اک روز معتبر دے گا

    امید صبح کی حسرت میں جل بجھے جو چراغ

    انہی کا خون رخ شام غم سحر دے گا

    گنوا دیے ہیں جو رستے میں ہم نے خواب اپنے

    سفر کا شوق ہمیں ان کا بھی ثمر دے گا

    جو آئنوں کی طرح عکس ہی چراتا رہا

    وہ میرے خواب کے چہرے کو کیا گہر دے گا

    تراشتا ہے ہواؤں میں روشنی کے جو حرف

    وہی تو حرف تمنا کو بال و پر دے گا

    یہ قحط عزم سفر دیکھ کر گماں ہوا ہے

    مسافروں کا یہی ڈر ہی ان کو گھر دے گا

    وہ بے خبر ہے کہ طوفاں کا رخ بدلنا ہے

    مرا سفینہ مجھے وسعت نظر دے گا

    پلٹ کے آئیں گے پھر سے اسدؔ پرانے دن

    مرا یقین مجھے دشت میں شجر دے گا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے