جہاں میں آنکھ جو کھولی فنا کو بھول گئے
جہاں میں آنکھ جو کھولی فنا کو بھول گئے
کچھ ابتدا ہی میں ہم انتہا کو بھول گئے
نفاق گبر و مسلماں کا یوں مٹا آخر
یہ بت کو بھول گئے وہ خدا کو بھول گئے
ہوا مزاج کا عالم یہ سیر یورپ سے
کہ اپنے ملک کی آب و ہوا کو بھول گئے
زمیں لرزتی ہے بہتے ہیں خون کے دریا
خودی کے جوش میں اپنے خدا کو بھول گئے
یہ انقلاب ہوا عالم اسیری میں
قفس میں رہ کے ہم اپنی صدا کو بھول گئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.