روز اک نیا سورج ہے تری عطاؤں میں
روز اک نیا سورج ہے تری عطاؤں میں
اعتماد بڑھتا ہے صبح کی ضیاؤں میں
شاید ان دیاروں میں خوش دلی بھی دولت ہے
ہم تو مسکراتے ہی گھر گئے گداؤں میں
پھولتی ہے اب سرسوں دلہنوں کے ہاتھوں پر
کس صدی میں ہوتے تھے رنگ بھی حناؤں میں
بھائیوں کے جمگھٹ میں بے ردا ہوئیں بہنیں
اور سر نہیں چھپتے ماؤں کی دعاؤں میں
بارشیں تو یاروں نے کب کی بیچ ڈالی ہیں
اب تو خاک اڑتی ہے ہر طرف ہواؤں میں
سونی سونی گلیاں ہیں اجڑی اجڑی چوپالیں
جیسے کوئی آدم خور پھر گیا ہو گاؤں میں
جب کسان کھیتوں میں دوپہر کو جلتے ہیں
لوٹتے ہیں سگ زادے کیکروں کی چھاؤں میں
تم ہمارے بھائی ہو بس ذرا سی دوری ہے
ہم فصیل کے باہر تم محل سراؤں میں
ان کے دامنوں سے بھی خون رسنے لگتا ہے
زخم چھپ نہیں سکتے ریشمی رداؤں میں
دوستی کے پردے میں دشمنی ہوئی اتنی
رہ گئے فقط دشمن اپنے آشناؤں میں
اور جنگ کیا ہوگی جب کہ نخل زیتوں کا
شاخ شاخ بٹتا ہے بھوکی فاختاؤں میں
ایک بے گنہ کا خون غم جگا گیا کتنے
بٹ گیا ہے اک بیٹا بے شمار ماؤں میں
بے وقار آزادی ہم غریب ملکوں کی
تاج سر پہ رکھا ہے بیڑیاں ہیں پاؤں میں
خاک سے جدا ہو کر اپنا وزن کھو بیٹھا
آدمی معلق سا رہ گیا خلاؤں میں
اب ندیمؔ منزل کو ریزہ ریزہ چنتا ہے
گھر گیا تھا بے چارہ کتنے رہنماؤں میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.