Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

روز اک نیا سورج ہے تری عطاؤں میں

احمد ندیم قاسمی

روز اک نیا سورج ہے تری عطاؤں میں

احمد ندیم قاسمی

MORE BYاحمد ندیم قاسمی

    روز اک نیا سورج ہے تری عطاؤں میں

    اعتماد بڑھتا ہے صبح کی ضیاؤں میں

    شاید ان دیاروں میں خوش دلی بھی دولت ہے

    ہم تو مسکراتے ہی گھر گئے گداؤں میں

    پھولتی ہے اب سرسوں دلہنوں کے ہاتھوں پر

    کس صدی میں ہوتے تھے رنگ بھی حناؤں میں

    بھائیوں کے جمگھٹ میں بے ردا ہوئیں بہنیں

    اور سر نہیں چھپتے ماؤں کی دعاؤں میں

    بارشیں تو یاروں نے کب کی بیچ ڈالی ہیں

    اب تو خاک اڑتی ہے ہر طرف ہواؤں میں

    سونی سونی گلیاں ہیں اجڑی اجڑی چوپالیں

    جیسے کوئی آدم خور پھر گیا ہو گاؤں میں

    جب کسان کھیتوں میں دوپہر کو جلتے ہیں

    لوٹتے ہیں سگ زادے کیکروں کی چھاؤں میں

    تم ہمارے بھائی ہو بس ذرا سی دوری ہے

    ہم فصیل کے باہر تم محل سراؤں میں

    ان کے دامنوں سے بھی خون رسنے لگتا ہے

    زخم چھپ نہیں سکتے ریشمی رداؤں میں

    دوستی کے پردے میں دشمنی ہوئی اتنی

    رہ گئے فقط دشمن اپنے آشناؤں میں

    اور جنگ کیا ہوگی جب کہ نخل زیتوں کا

    شاخ شاخ بٹتا ہے بھوکی فاختاؤں میں

    ایک بے گنہ کا خون غم جگا گیا کتنے

    بٹ گیا ہے اک بیٹا بے شمار ماؤں میں

    بے وقار آزادی ہم غریب ملکوں کی

    تاج سر پہ رکھا ہے بیڑیاں ہیں پاؤں میں

    خاک سے جدا ہو کر اپنا وزن کھو بیٹھا

    آدمی معلق سا رہ گیا خلاؤں میں

    اب ندیمؔ منزل کو ریزہ ریزہ چنتا ہے

    گھر گیا تھا بے چارہ کتنے رہنماؤں میں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے