میں تیرا نام تخیل میں جوں ہی دہراؤں
میں تیرا نام تخیل میں جوں ہی دہراؤں
شباہتوں میں تری پور پور کھل جاؤں
سماعتوں کو عطا کر وہ سر وہ سوز و گداز
کسی طرح تری آواز کو میں سن پاؤں
میں راستے میں یہی آس لے کے بیٹھی ہوں
جو منتظر ہو کوئی اپنے گھر کو لوٹ آؤں
چلے نہ نشتر و خنجر نہ دل کرے گھائل
زبان یار کو ایسی قبا میں پہناؤں
غزل میں درد سے لکھوں کوئی ادق تحریر
غم حیات کی منظر کشی کیے جاؤں
نہ سوز ہجر کی تلخی نہ قربتوں کا خمار
میں اپنے دل کو بھلا کس طرح سے بہلاؤں
کبھی تو خواب سے نکلے وجود بن کے ملے
میں کب تلک کوئی تصویر دیکھتی جاؤں
جو سادگی میں مزہ ہے سنگھار میں ہے کہاں
اگرچہ نت نئے انداز حسن اپناؤں
سجے جو شاخ تمنا میں یاد کی خوشبو
سمیٹنے کبھی بیٹھوں تو یونہی مسکاؤں
میں نفرتوں کی ہوں عادی سو اس لئے زرواؔ
سرائے عشق میں لے کر پناہ گھبراؤں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.