بندوں کے ساتھ ہے نہ وہ بندہ خدا کے ساتھ
بندوں کے ساتھ ہے نہ وہ بندہ خدا کے ساتھ
جس کا معاملہ ہے دل مبتلا کے ساتھ
تم بھی پیے ہوئے ہو نہ چھوڑو پلا کے ساتھ
آنکھیں ملا کے آنکھیں نہ پھیرو ادا کے ساتھ
راہ فرار غم نہ رہ منزل وفا
کس موڑ پر وہ چھوڑ گئے مجھ کو لا کے ساتھ
میں اور تم سے درد کا درماں طلب کروں
کیسی حیات موت نہ لوں التجا کے ساتھ
اللہ رے بزم ناز کی صبر آزمائیاں
ہو آئے ہم بھی اس دل صبر آزما کے ساتھ
وہ مہر و ماہ لالہ و گل لے کے کیا کرے
سجدوں کا جس کے ربط ہو اس نقش پا کے ساتھ
کس طرح اس کا دامن دل ہاتھ آ سکے
دامن بچا بچا کے چلے جو صبا کے ساتھ
جو دوست نے کیا ہے وہ دشمن نہ کر سکے
ایسا سلوک ایک خراب وفا کے ساتھ
وہ آ رہے ہیں جان بہاراں بنے ہوئے
تاباںؔ سلام کیجیے ان کو دعا کے ساتھ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.