تو عبادت زباں سے کرتا ہے
تو عبادت زباں سے کرتا ہے
دل عبادت فغاں سے کرتا ہے
بے حسی حاصل مراد تری
بات تو کس گماں سے کرتا ہے
مجھ کو تعلیم دے رہا ہے تو
بات میری زباں سے کرتا ہے
تیری دنیا ہی دین ہے تیرا
فیصلہ بے نشاں سے کرتا ہے
یہ مجسم ہی سیف قاطع ہے
مشغلہ بے زباں سے کرتا ہے
تیری ہستی کا راز ہے پیسہ
سامنا نیستاں سے کرتا ہے
کیا بتاؤں کہ کون ہے واصفؔ
بات کس کے جہاں سے کرتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.