Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

تو اپنے شعر کی بنیاد بول چال پہ رکھ

احمد رئیس

تو اپنے شعر کی بنیاد بول چال پہ رکھ

احمد رئیس

MORE BYاحمد رئیس

    تو اپنے شعر کی بنیاد بول چال پہ رکھ

    پھر اس کے بعد نگاہ و نظر خیال پہ رکھ

    ترے بیان سے آئے گی بو صداقت کی

    جو ہو سکے تو یہ فکر سخن کمال پہ رکھ

    ہزار رنگ ہیں اظہار کے زمانے میں

    غزل کو ناز سے انداز خوش خصال پہ رکھ

    ادب کا جوہر نایاب بھی نظر آئے

    ہر ایک لفظ کو میزان اعتدال پہ رکھ

    نہ دیکھ جرم مرا حرف اعتراف کے بعد

    نہ بوجھ اور خدایا شکستہ حال پہ رکھ

    ہنر یہی ہے کہ لمحے کو عمر کر دینا

    یہ ہاتھ ہاتھ میں اور گال میرے گال پہ رکھ

    ہوں تیرے در سے امید کرم لیے بیٹھا

    کبھی نگاہ بھی محتاج کے سوال پہ رکھ

    میں شاہکار ہوں تیرا مگر مرے مولا

    میں آفتاب نہیں ہوں مجھے زوال پہ رکھ

    جو تجھ کو منزل مقصود تک پہنچنا ہے

    کبھی یقین کو اپنے نہ احتمال پہ رکھ

    نہ کر سکے غم دوراں کبھی بھی افسردہ

    یقیں رئیسؔ فقط رب ذو الجلال پہ رکھ

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے