ہنر کے دست مبارک سے تن کا حصہ کاٹ
ہنر کے دست مبارک سے تن کا حصہ کاٹ
سخن جو کرنا ہے تو اپنا ہی کلیجہ کاٹ
نکال اپنے لئے راہ پانیوں سے بھی
تجھے جو پار اترنا ہے موج دریا کاٹ
محبتوں میں دکھاوا نہ ہو تو اچھا ہے
انا کے تھان سے کپڑا کوئی تو سستا کاٹ
محبتوں کے بدن ہوتے ہیں بڑے نازک
ملی ہے روپ کی تلوار تھوڑا ہلکا کاٹ
فلک کے پار ترا منتظر ہے اک سورج
بلند برف کی دیوار میں دریچہ کاٹ
حریف چھپ گئے ہیں آستین میں عادلؔ
بلا کی بین بجا دشمنوں کا رستہ کاٹ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.