جب اس چمن میں چھوڑ کے ہم آشیاں چلے
جب اس چمن میں چھوڑ کے ہم آشیاں چلے
اک ہم صفیر نے بھی نہ پوچھا کہاں چلے
کیا لے لیا تھا ہم نے الجھتا جو کوئی خار
جوں گل ہم اس کے باغ سے دامن فشاں چلے
ہر بات میں ہے ایسی کتر بیونت اس کو یاد
مقراض کی طرح سے کہ جس کی زباں چلے
غافل ہماری آہ سے رہنا نہ بے خطر
کر خوف ایسے تیر سے جو بے کماں چلے
راہ عدم بھی دور ہے سوداؔ کہ جس کے بیچ
جس طرح پیر جائے ہے ووہیں جواں چلے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.