برہنہ ہو گئے ہیں زخم کیا کیا
برہنہ ہو گئے ہیں زخم کیا کیا
سویرا شام غم کا ہو گیا کیا
قیامت ہو گیا چلنا بھی مجھ کو
پلٹ کر دیکھنا بھی تھا ترا کیا
زباں احساس کی سوکھی ہوئی تھی
بدلتا موسموں کا ذائقہ کیا
بہت نزدیک آتے جا رہے ہو
بچھڑنے کا ارادہ کر لیا کیا
پلٹ کر آ گئے گزرے زمانے
تمہارا نام کاغذ پر لکھا کیا
بڑے محتاط ہوتے جا رہے ہو
زمانے نے تمہیں سمجھا دیا کیا
کسے تکتے ہوئے پتھرا گئے ہو
خلاؤں میں تمہارا کھو گیا کیا
بڑے رنگین سپنے آ رہے ہیں
عدیمؔ اس نیند سے اب جاگنا کیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.