Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

برہنہ ہو گئے ہیں زخم کیا کیا

عدیم ہاشمی

برہنہ ہو گئے ہیں زخم کیا کیا

عدیم ہاشمی

MORE BYعدیم ہاشمی

    برہنہ ہو گئے ہیں زخم کیا کیا

    سویرا شام غم کا ہو گیا کیا

    قیامت ہو گیا چلنا بھی مجھ کو

    پلٹ کر دیکھنا بھی تھا ترا کیا

    زباں احساس کی سوکھی ہوئی تھی

    بدلتا موسموں کا ذائقہ کیا

    بہت نزدیک آتے جا رہے ہو

    بچھڑنے کا ارادہ کر لیا کیا

    پلٹ کر آ گئے گزرے زمانے

    تمہارا نام کاغذ پر لکھا کیا

    بڑے محتاط ہوتے جا رہے ہو

    زمانے نے تمہیں سمجھا دیا کیا

    کسے تکتے ہوئے پتھرا گئے ہو

    خلاؤں میں تمہارا کھو گیا کیا

    بڑے رنگین سپنے آ رہے ہیں

    عدیمؔ اس نیند سے اب جاگنا کیا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے