Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

تنہائی جب شور مچانے لگتی ہے

اجیتیندرا آزی تمام

تنہائی جب شور مچانے لگتی ہے

اجیتیندرا آزی تمام

MORE BYاجیتیندرا آزی تمام

    تنہائی جب شور مچانے لگتی ہے

    کمرے کی ہر چیز ڈرانے لگتی ہے

    کیسے آخر حسن کے عیب دکھائی دیں

    دیکھیں تو مدہوشی چھانے لگتی ہے

    یہ عالم ہے آج اگر اچھائی کرو

    دنیا اپنا رنگ دکھانے لگتی ہے

    جانے کس کا سایہ ہے اس دنیا پر

    خود میں خود کو ہی دفنانے لگتی ہے

    ایک بری عادت ہے اس خاموشی کی

    ماضی کی تصویر بنانے لگتی ہے

    جیسے ہی سونے کی کوشش کرتا ہوں

    کوئی آہٹ دل دھڑکانے لگتی ہے

    بند کروں دروازہ تو اک حیرانی

    کھڑکی پر ادھیکار جمانے لگتی ہے

    جوں ہی اپنے دل کے اندر جاتا ہوں

    دل کی دنیا باہر آنے لگتی ہے

    تھک جاتی ہے جب غم سے لڑتے لڑتے

    روح بدن سے آنکھ چرانے لگتی ہے

    مرنا کیا ہے ہجر کے ماروں سے پوچھو

    دھیرے دھیرے لاش ٹھکانے لگتی ہے

    ایسی فطرت ہوتی ہے چالاکی کی

    اپنے گھر کو آگ لگانے لگتی ہے

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے