تنہائی جب شور مچانے لگتی ہے
تنہائی جب شور مچانے لگتی ہے
کمرے کی ہر چیز ڈرانے لگتی ہے
کیسے آخر حسن کے عیب دکھائی دیں
دیکھیں تو مدہوشی چھانے لگتی ہے
یہ عالم ہے آج اگر اچھائی کرو
دنیا اپنا رنگ دکھانے لگتی ہے
جانے کس کا سایہ ہے اس دنیا پر
خود میں خود کو ہی دفنانے لگتی ہے
ایک بری عادت ہے اس خاموشی کی
ماضی کی تصویر بنانے لگتی ہے
جیسے ہی سونے کی کوشش کرتا ہوں
کوئی آہٹ دل دھڑکانے لگتی ہے
بند کروں دروازہ تو اک حیرانی
کھڑکی پر ادھیکار جمانے لگتی ہے
جوں ہی اپنے دل کے اندر جاتا ہوں
دل کی دنیا باہر آنے لگتی ہے
تھک جاتی ہے جب غم سے لڑتے لڑتے
روح بدن سے آنکھ چرانے لگتی ہے
مرنا کیا ہے ہجر کے ماروں سے پوچھو
دھیرے دھیرے لاش ٹھکانے لگتی ہے
ایسی فطرت ہوتی ہے چالاکی کی
اپنے گھر کو آگ لگانے لگتی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.