جو شخص یہاں عشق میں ناکام ہوا ہے
جو شخص یہاں عشق میں ناکام ہوا ہے
پھر اس کا زمانے میں بڑا نام ہوا ہے
تم خوش ہو کہ الزام کسی اور پہ ٹھہرا
اک شخص ترے نام سے بدنام ہوا ہے
آغاز محبت کی کوئی بات نہ پوچھو
انجام جو ہونا تھا وہ انجام ہوا ہے
رہگیر بھی اب اس کی گواہی نہیں دیں گے
وہ قتل جو رستے میں سر عام ہوا ہے
ہم عشق چھپاتے تھے مگر چھپ نہیں پایا
جو کام نہ ہونا تھا وہی کام ہوا ہے
کچھ دن سے تری یاد بھی آئی نہیں مجھ کو
دل پھر بھی اداس اپنا سر شام ہوا ہے
تجھ پر کسی منتر کا اثر کوئی نہ ہوگا
تجھ سا بت کافر بھی کبھی رام ہوا ہے
لب کھولنا ٹھہرا ہے یہاں لائق تعزیر
ہر لفظ یہاں باعث الزام ہوا ہے
ہم ہوں گے شفایاب تری نظر کرم سے
مرہم سے کہاں زخم کو آرام ہوا ہے
یہ زلف گرہ گیر کوئی جال ہے فیصلؔ
ہر طائر آزاد تہ دام ہوا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.