Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جو شخص یہاں عشق میں ناکام ہوا ہے

فیصل شہزاد

جو شخص یہاں عشق میں ناکام ہوا ہے

فیصل شہزاد

MORE BYفیصل شہزاد

    جو شخص یہاں عشق میں ناکام ہوا ہے

    پھر اس کا زمانے میں بڑا نام ہوا ہے

    تم خوش ہو کہ الزام کسی اور پہ ٹھہرا

    اک شخص ترے نام سے بدنام ہوا ہے

    آغاز محبت کی کوئی بات نہ پوچھو

    انجام جو ہونا تھا وہ انجام ہوا ہے

    رہگیر بھی اب اس کی گواہی نہیں دیں گے

    وہ قتل جو رستے میں سر عام ہوا ہے

    ہم عشق چھپاتے تھے مگر چھپ نہیں پایا

    جو کام نہ ہونا تھا وہی کام ہوا ہے

    کچھ دن سے تری یاد بھی آئی نہیں مجھ کو

    دل پھر بھی اداس اپنا سر شام ہوا ہے

    تجھ پر کسی منتر کا اثر کوئی نہ ہوگا

    تجھ سا بت کافر بھی کبھی رام ہوا ہے

    لب کھولنا ٹھہرا ہے یہاں لائق تعزیر

    ہر لفظ یہاں باعث الزام ہوا ہے

    ہم ہوں گے شفایاب تری نظر کرم سے

    مرہم سے کہاں زخم کو آرام ہوا ہے

    یہ زلف گرہ گیر کوئی جال ہے فیصلؔ

    ہر طائر آزاد تہ دام ہوا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے