حیا کے بار سے نظریں جھکی جھکی جیسے
حیا کے بار سے نظریں جھکی جھکی جیسے
ملے ہیں وہ مگر اس طرح اجنبی جیسے
بہت ہے دل کے لیے اس کی کم نگاہی بھی
مجھے تو دولت کونین مل گئی جیسے
وہ یوں خیال سے گزرے ہیں جیسے موج صبا
وہ یوں نگاہ میں آئے ہیں روشنی جیسے
خنک خنک سی یہ بوندیں یہ نرم نرم پھوار
چھلک پڑے ترے لہجے کی نغمگی جیسے
نہیں ہے دل کے دھڑکنے کی بھی کوئی آواز
کسی کی یاد بہت دور لے گئی جیسے
کبھی کبھی مجھے ان کا خیال یوں آیا
ذرا سی دیر کو ہو جائے روشنی جیسے
ترے بغیر یہ عالم ہے دیدہ و دل کا
کسی فسانے میں عنوان کی کمی جیسے
وہ جب قریب سے گزرے تو یہ ہوا محسوس
گزر رہی ہے دبے پاؤں زندگی جیسے
بہت ہے شور اجالوں کا پھر بھی اے اقبالؔ
بھٹک رہا ہو اندھیروں میں آدمی جیسے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.