Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

حیا کے بار سے نظریں جھکی جھکی جیسے

اقبال صفی پوری

حیا کے بار سے نظریں جھکی جھکی جیسے

اقبال صفی پوری

MORE BYاقبال صفی پوری

    حیا کے بار سے نظریں جھکی جھکی جیسے

    ملے ہیں وہ مگر اس طرح اجنبی جیسے

    بہت ہے دل کے لیے اس کی کم نگاہی بھی

    مجھے تو دولت کونین مل گئی جیسے

    وہ یوں خیال سے گزرے ہیں جیسے موج صبا

    وہ یوں نگاہ میں آئے ہیں روشنی جیسے

    خنک خنک سی یہ بوندیں یہ نرم نرم پھوار

    چھلک پڑے ترے لہجے کی نغمگی جیسے

    نہیں ہے دل کے دھڑکنے کی بھی کوئی آواز

    کسی کی یاد بہت دور لے گئی جیسے

    کبھی کبھی مجھے ان کا خیال یوں آیا

    ذرا سی دیر کو ہو جائے روشنی جیسے

    ترے بغیر یہ عالم ہے دیدہ و دل کا

    کسی فسانے میں عنوان کی کمی جیسے

    وہ جب قریب سے گزرے تو یہ ہوا محسوس

    گزر رہی ہے دبے پاؤں زندگی جیسے

    بہت ہے شور اجالوں کا پھر بھی اے اقبالؔ

    بھٹک رہا ہو اندھیروں میں آدمی جیسے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے