شاخ امکان پر کوئی کانٹا اگا کوئی غنچہ کھلا میں نے غزلیں کہیں
شاخ امکان پر کوئی کانٹا اگا کوئی غنچہ کھلا میں نے غزلیں کہیں
زعم عیسیٰ گریزی میں جو بھی ہوا میں نے ہونے دیا میں نے غزلیں کہیں
لوگ چیخا کئے وہ جو معبود ہے بس اسی کی ثنا بس اسی کی ثنا
میری شہ رگ سے میرے خدا نے کہا مجھ کو اپنی سنا میں نے غزلیں کہیں
حبس بے جا میں تھی شہر کی جب ہوا آپ جیتے رہے آپ کا حوصلہ
میں اصولوں وغیرہ کا مارا ہوا مجھ کو مرنا پڑا میں نے غزلیں کہیں
کوئی دکھ بھی نہ ہو کوئی سکھ بھی نہ ہو اور تم بھی نہ ہو اور مصرع کہیں
ایسا ممکن نہیں ایسا ہوتا نہیں لیکن ایسا ہوا میں نے غزلیں کہیں
عشق دو ہی ملے میں نے دونوں کیے اک حقیقی کیا اک مجازی کیا
میں مسلمان بھی اور سلمانؔ بھی میں نے کلمہ پڑھا میں نے غزلیں کہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.