اف یہ ادائیں اف یہ جلوہ تم تو قیامت ڈھاتی ہو
اف یہ ادائیں اف یہ جلوہ تم تو قیامت ڈھاتی ہو
لیکن یہ بتلاؤ جاناں اب کس کو بہلاتی ہو
مجھ کو اجازت ہو تو جاناں میں ایک اور سوال کروں
اب جس سے وعدہ کرتی ہو اس کا ساتھ نبھاتی ہو
ساری باتیں اپنی جگہ ہیں لیکن میں اک بات کہوں
اب بھی آنکھیں بھر آتی ہیں جب جب تم یاد آتی ہو
اس نے تو بس جسم لیا ہے دل تو اب بھی تمہارا ہے
ان باتوں سے دل دکھتا ہے یہ سب کیوں دہراتی ہو
دیکھ کے حیرت ہوتی ہے میں اب تک باقی ہوں تم میں
اب بھی جونؔ کا نام لبوں پر لاتی ہو شرماتی ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.