مختصر ساتھ کا بڑا دکھ ہے
مختصر ساتھ کا بڑا دکھ ہے
چند لمحات کا بڑا دکھ ہے
کرب میں ساتھ آپ بھی نہ رہے
مجھ کو اس بات کا بڑا دکھ ہے
مجھ سے چالاکیاں دغا بازی
ان کمالات کا بڑا دکھ ہے
جو ترستا تھا ایک قطرے کو
اس کو برسات کا بڑا دکھ ہے
یہ ترے ہاتھ کیوں نہیں آیا
مجھ کو اس ہاتھ کا بڑا دکھ ہے
خواب کس کس کے دیکھتا ہوگا
ان خیالات کا بڑا دکھ ہے
دیکھ کر پوچھتا ہے آنکھوں میں
تم کو کس بات کا بڑا دکھ ہے
دن میں تم کو چھپا ہی لیتا ہوں
درد دل رات کا بڑا دکھ ہے
باتیں کرتا تھا وہ مروت میں
اس کی خیرات کا بڑا دکھ ہے
ساری دنیا کو جیت کر دانشؔ
عشق میں مات کا بڑا دکھ ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.