میری تنہائی اسدؔ اس کو بتا دی جائے
میری تنہائی اسدؔ اس کو بتا دی جائے
ورنہ دیوار سے تصویر ہٹا دی جائے
تاکہ وہ سمجھے مرے غم کی کہانی کیا ہے
اس کو اک بار محبت کی سزا دی جائے
یا پھر ایسا ہو مجھے زخم کی عادت نہ پڑے
یا پھر ایسا ہو مری عمر گھٹا دی جائے
اب نہیں ہے کوئی حسرت نہ تمنا باقی
راکھ جذبوں کی ہواؤں میں اڑا دی جائے
آخری بار میں منظر کی کہانی لکھوں
آخری بار چراغوں کو ہوا دی جائے
قید ہستی سے نکلنے کا کوئی راستہ ہو
یا مرے پاؤں سے زنجیر ہٹا دی جائے
آرزو ہو تجھے مرنے کی اسدؔ اور تجھ کو
باتوں باتوں میں ہی جینے کی دعا دی جائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.