Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

میری تنہائی اسدؔ اس کو بتا دی جائے

محمد اسد علی وڑائچ

میری تنہائی اسدؔ اس کو بتا دی جائے

محمد اسد علی وڑائچ

MORE BYمحمد اسد علی وڑائچ

    میری تنہائی اسدؔ اس کو بتا دی جائے

    ورنہ دیوار سے تصویر ہٹا دی جائے

    تاکہ وہ سمجھے مرے غم کی کہانی کیا ہے

    اس کو اک بار محبت کی سزا دی جائے

    یا پھر ایسا ہو مجھے زخم کی عادت نہ پڑے

    یا پھر ایسا ہو مری عمر گھٹا دی جائے

    اب نہیں ہے کوئی حسرت نہ تمنا باقی

    راکھ جذبوں کی ہواؤں میں اڑا دی جائے

    آخری بار میں منظر کی کہانی لکھوں

    آخری بار چراغوں کو ہوا دی جائے

    قید ہستی سے نکلنے کا کوئی راستہ ہو

    یا مرے پاؤں سے زنجیر ہٹا دی جائے

    آرزو ہو تجھے مرنے کی اسدؔ اور تجھ کو

    باتوں باتوں میں ہی جینے کی دعا دی جائے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے