کوئی اس اور اگر شوق سے آیا ہوتا
کوئی اس اور اگر شوق سے آیا ہوتا
راہ میں ہم نے چراغوں کو جلایا ہوتا
ہر نظر دور سے کہتی ہے چلے بھی آؤ
صرف تم نے ہی اشارے سے بلایا ہوتا
وقت کا کیا ہے گزرتا ہے گزر جانے سے
لطف ہر وقت کا تو نے تو اٹھایا ہوتا
ٹوٹتا ہوں جو ذرا سا تو بکھر جاتا ہوں
کاش پتھر سے مرا جسم بنایا ہوتا
پھول کھلتے ہی لرزتا ہے ترے کانٹے سے
پھول پر ایسے محافظ کا نہ سایا ہوتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.