منظر وہ حادثے کا جو پلکوں میں قید ہے
منظر وہ حادثے کا جو پلکوں میں قید ہے
دریا کسی کے کرب کا اشکوں میں قید ہے
مدت سے ماں کے لب پہ تبسم نہیں کوئی
پائے خوشی وہ کیسے جو فکروں میں قید ہے
اک دن مہک اٹھے گی یہ باد صبا مگر
پھولوں کی زندگی ابھی غنچوں میں قید ہے
سوچا تھا اس کو ہم نے کہ رانی بنائیں گے
لیکن کنیز شاہ کے محلوں میں قید ہے
راویؔ شغف نہیں اسے غزلوں سے آج بھی
پیغام جب کہ عشق کا مصرعوں میں قید ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.