سبھی قسمیں سبھی وعدے ارادے ٹوٹ جاتے ہیں
سبھی قسمیں سبھی وعدے ارادے ٹوٹ جاتے ہیں
ہوس بنیاد ہو جن کی وہ رشتے ٹوٹ جاتے ہیں
ہنر سب میں کہاں ہوتا ہے سچ کو جھوٹ کرنے کا
زبانیں خشک پڑ جاتی ہیں لہجے ٹوٹ جاتے ہیں
بدن سے لاکھ بہتر ہے بدن کے عکس کا رشتہ
چٹکتے ہیں جب آئینے تو چہرے ٹوٹ جاتے ہیں
حفاظت رات بھر کرتی ہیں آنکھیں چند خوابوں کی
مگر وہ بھی سحر تک آتے آتے ٹوٹ جاتے ہیں
شب ہجراں میں آنسو تولتی پلکوں کو سمجھا دو
مسلسل بارشیں ہونے سے رستے ٹوٹ جاتے ہیں
مقدر ہر قدم پر ٹھوکریں دیتا ہے جب ساحلؔ
تمہاری حیثیت کیا اچھے اچھے ٹوٹ جاتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.