پیٹھ پر یار تھپک لمحۂ زک چبھتا ہے
پیٹھ پر یار تھپک لمحۂ زک چبھتا ہے
دل میں ہر ہار کا دکھ جیت تلک چبھتا ہے
بات جب ختم ہوئی قصہ بنی پہلے کا
پر ترے دل میں چبھا خنجر شک چبھتا ہے
زخم بھرنے کی امیدوں پہ یہ پانی پھیرے
اس لیے زخم پہ چھڑکیں تو نمک چبھتا ہے
ان کو زہرا کے دکھوں کا نہیں احساس ذرا
تیر کی مثل بہ دل ذکر فدک چبھتا ہے
چاندنی یوں تو بھلی لگتی ہے آنکھوں کو وقیعؔ
حد سے بڑھ جائے تو پھر ماہ فلک چبھتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.