کہیے تو کھیل جاؤں میں خود اپنی جان پر
کہیے تو کھیل جاؤں میں خود اپنی جان پر
ناحق تلے ہیں آپ مرے امتحان پر
گلشن میں چند روز کی مہمان ہے بہار
پھولے نہیں سماتے ہیں گل کس گمان پر
پکڑے گئے ہیں دختر رز سے جناب شیخ
میلا لگا ہے پیر مغاں کی دکان پر
آخر نہیں نہیں میں بھی اک ہاں نکل گئی
جو بات دل میں تھی وہی آئی زبان پر
آخر جو بات دب نہ سکی آتش فراق
ضبط فغاں سے پڑ گئے چھالے زبان پر
ٹھنڈی ہوا چلی تو گراں ہو گئی شراب
گویا لگی ہے آگ مغاں کی دکان پر
بسملؔ ہیں آج حافظ قرآں بنے ہوئے
بیٹھے تھے کل یہ پیر مغاں کی دکان پر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.