Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

گھر کی ہر ایک چیز گلی میں نہ بانٹنا

حارث بلال

گھر کی ہر ایک چیز گلی میں نہ بانٹنا

حارث بلال

MORE BYحارث بلال

    گھر کی ہر ایک چیز گلی میں نہ بانٹنا

    دیوار بانٹ لینا دراڑیں نہ بانٹنا

    دریا کے راستے میں بسانا نہ بستیاں

    بارش کے برتنوں میں شرابیں نہ بانٹنا

    رستے میں اک رئیس پڑا مل گیا مجھے

    کہتا تھا زندگی میں زمینیں نہ بانٹنا

    اپنی کمائی اور وراثت میں فرق ہے

    لوگوں میں خواب بانٹنا آنکھیں نہ بانٹنا

    کچھ خیر بانٹنے کو بھی تہذیب چاہیے

    جوتوں کے شاپروں میں کتابیں نہ بانٹنا

    سورج کی دھوپ جیسا نہیں ہے دیوں کا نور

    ہرگز کسی سے اپنی منڈیریں نہ بانٹنا

    کوئی ندی ہو باغ ہو صحرا ہو یا پہاڑ

    حارثؔ کسی سے بھی مری یادیں نہ بانٹنا

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے