گھر کی ہر ایک چیز گلی میں نہ بانٹنا
گھر کی ہر ایک چیز گلی میں نہ بانٹنا
دیوار بانٹ لینا دراڑیں نہ بانٹنا
دریا کے راستے میں بسانا نہ بستیاں
بارش کے برتنوں میں شرابیں نہ بانٹنا
رستے میں اک رئیس پڑا مل گیا مجھے
کہتا تھا زندگی میں زمینیں نہ بانٹنا
اپنی کمائی اور وراثت میں فرق ہے
لوگوں میں خواب بانٹنا آنکھیں نہ بانٹنا
کچھ خیر بانٹنے کو بھی تہذیب چاہیے
جوتوں کے شاپروں میں کتابیں نہ بانٹنا
سورج کی دھوپ جیسا نہیں ہے دیوں کا نور
ہرگز کسی سے اپنی منڈیریں نہ بانٹنا
کوئی ندی ہو باغ ہو صحرا ہو یا پہاڑ
حارثؔ کسی سے بھی مری یادیں نہ بانٹنا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.