Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

آنسوؤں کے نگر بناتے ہیں

اظہر سجاد

آنسوؤں کے نگر بناتے ہیں

اظہر سجاد

MORE BYاظہر سجاد

    آنسوؤں کے نگر بناتے ہیں

    لوگ پانی پہ گھر بناتے ہیں

    چاند سے گھر کو دیکھنے کے لیے

    آؤ کاغذ کے پر بناتے ہیں

    پہلے مہماں بناتے ہیں اپنا

    دل کو پھر در بدر بناتے ہیں

    اس نے بھنوروں کے دل بنائے ہیں

    ہم بھی کلیوں کے ڈر بناتے ہیں

    لوگ کچے گھروندے بچپن میں

    جانے کیا سوچ کر بناتے ہیں

    راستے ہم سے یوں لپٹتے ہیں

    جیسے ہم ہی سفر بناتے ہیں

    لوگ اظہرؔ اندھیر نگری میں

    جانے کیوں بام و در بناتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے