یاروں میں تو مشہور ہے یارانہ ہمارا
یاروں میں تو مشہور ہے یارانہ ہمارا
اس شہر کا دشمن بھی ہے دیوانہ ہمارا
ظاہر میں تو خوش باش نظر آتے ہیں لیکن
دل غم سے تمھارے نہیں بیگانہ ہمارا
آنکھوں سے بڑھاتا ہے کوئی پیاس ہماری
ہونٹوں سے کوئی بھرتا ہے پیمانہ ہمارا
کب آؤ گے اور آ کے گلے ہم سے ملو گے
دل پوچھتا ہے ہم سے یہ روزانہ ہمارا
بن تیرے جو زندہ ہیں تو زندہ ہی کہاں ہیں
یوں جینے سے بہتر نہیں مر جانا ہمارا
عزت کا شرف ہم کو وراثت میں ملا ہے
نسلوں سے ہے انداز شریفانہ ہمارا
جاں دے کے چلے آئے در یار پہ فیصلؔ
مقبول ہو شاید یہی نذرانہ ہمارا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.